fbpx

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ، راول ڈیم کنارے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی

چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں، مکمل طور پر لاقانونیت ہے، قانون تو کہیں پر نظر ہی نہیں آتا، ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں، جب بھی وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں،

عدالت نے استفسار کیا کہ ماسٹر پلانرز میں زون تھری اور فور سے متعلق کیا پلان بنایا گیا تھا؟ جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ زون فور کو تو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا، عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے اور دیگر ادارے ریئل اسٹیٹ کاروبار میں کیوں ملوث ہیں؟ اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں ایلیٹ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے،

چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت میں کہا کہ 1992میں ماسٹر پلان میں ترمیم کر کے زون فور میں 20کنال فارمز کی اجازت دیدی گئی، عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے چیئرمین سی ڈی اے ہیں جو چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟کیا ریونیو افسر بھی ان دونوں عہدوں کے ماتحت آتا ہے؟ جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت میں کہا کہ دو چیئرمین سی ڈی اے چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے جو ریئل اسٹیٹ کاروبار میں ملوث ہے وہ یہ کیسے روک سکتا ہے؟مفادات کا ٹکراؤ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، آپ قانون پر عملدرآمد کرانے کےلیے متعلقہ اتھارٹی ہیں،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ایکشن لے رہے ہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق سے بھی بریفنگ لی،عدالت نے کہا کہ اس کیس میں آپ قانون پر عملدرآمد نہیں کروا پا رہے،کیا آپ کوئی ایکشن لے سکتے ہیں؟ اس عدالت کو سچ بتائیں، جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ مشکل ہے اس بات کو مانتا ہوں لیکن ہم اپنی کوشش کریں گے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کا راول جھیل کے قریب کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم

آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

علیم خان اتنے بااثرکہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

کوئی ایم پی اے ہے یا وزیر؟ قانون سے بالاتر نہیں،علیم خان اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت نہیں تورا بورا ہے،وفاقی ادارے اسٹیٹ ایجنٹ بنے ہوئے ہیں،عدالت کے ریمارکس

تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی حالت دیکھی ہے ؟وہاں کوئی انسان جا نہیں سکتا،عام آدمی وہاں جاتے ہیں اس لیے ڈسٹرکٹ کورٹس کا یہ حال ہے،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں نہیں جاتے،

راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم