یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?

0
110

یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?
اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا اس سے مسائل پیدا ہوں گے اور لوگوں کو بہت سی ایسی باتوں کا پتا چلے گا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے اور جانیں گے تو حیران اور پریشان ہوں گے یعنی عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ پینڈورا باکس خفیہ خبروں کا کوئی جائے مقام ہے جہاں اُنہیں دفن کیا جاتا ہے اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ اصل میں پینڈورا کون تھی اور اس کا باکس کیا تھا اسمیں کیا چیزیں تھیں
کہا جا تا ہے کہ زی اس بادشاہ نے پینڈورا کو باکس بند حالت میں دیا تھا جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو اس میں سے عذاب اور قہر ناک درد نکلا ہر طرف موت کی حکمرانی تھی بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی عورت پینڈورا برایراست اس کا نشانہ بنی

اسلام میں عورت کا مرتبہ و مقام،عورت اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،اور دنیا میں پیار محبت کا ایک تاج محل


پینڈورا باکس جب کھلتا ہے تو است بند کرنا ممکن نہیں رہتا یہ پینڈورا باکس ہے کیا? کیا یہ حقیقت ہے? کیا یہ افسانہ ہے?یونانی دیو مالائی کا تحفہ ہیں? سچ یہی ہے کہ پینڈورا دیو مالائی تصور ہے اور باکس بھی اسی طرح کا خیالی باکس ہے یونانی دیو مالائی کا مطالعہ کریں تو انسان کی اس دنیا میں آمد سے پہلے کی دنیا دیوتاؤں دیوئیوں اور جنات کی دنیا تھی چاند کی دیوہ سرج کا دیوتا ہوا اور آندھیوں کا دیوتا ایولس سورج کی دیوی الیکٹرونا محبت اور خونصورتی کی دیوی ایفروڈائیٹ سورج موسیقی اور تیمارداری کا دیوتا اپالو جنگوں کا دیوتا اپریس آسمانوں اور جنتوں کا دیوتا اٹلس غرضیکہ ہر جذبے ہر خیال تصور قدر آسمان و زمین دریا و پہاڑ اور بحرو بر کے دیوتا بھی تھے دیویاں بھی تھیں یونانی دیومالائی میں ہی حضرت آدم و حوا کی کہانی ایک خوبصورت عورت کی ہے دیوتا اور دیوی عام طور پر لافانی سمجھے جانے والے افسانوی کردار اس وقت کی انسانی زندگی کے حکمران ہو کرتے تھے

ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


آج بھی انگریزی دنون کے نام ان کے ناموں کی نسبت سے بولے جاتے ہیں تب جناتی کردار واکے انسانوں کو دیو پیکر کہا جاتا تھا ایسے ہی دو بھائی پرومیتھیس اور ایپی میتھیس تھے یہ دونوں دیو پیکر بھائی تھے یہ دیو تا کی طرف سے جنگوں میں لڑا کرتے تھے ان دیوتاؤں کے بادشاہ کو زی اس کہا جاتا تھا اس نے پرومیتھیس سے کہا کہ گارے اور مٹی سے اکی انسان تخلیق کرو ایپی کے ذمے زی اس نے یہ کام لگا رکھا تھا کہ وہ جانور تخلیق کرے اور ان کو مختلف خوبیاں عطا کرے مثال کے طور پر لومڑی کو چالاکی چیتے کو پھرتی اور شیر کو بہادری وغیرہ سے منسوب کیا جانا تب کے دیو مالائی قصے کہانیوں کا ہی تخلیق کردہ ہے ورنہ کس نے لومڑی کی چالاکی کا خود مشاہدہ کیا ہے یا ان جانوروں سے منسوب خوبیوں یا خصوصیات کا کیا ثبوت ہے?

بڑھتی عمر کی غذائی ضروریات


ایپی میتھیس کا یہی کام تھا اس نے سارے خصائص ان سب جانوروں کو دے دیئے تھے جو وہ تخلیق کر چکا تھا اب انسان کو گارے اور مٹی سے بنانے کے بعد اس کے پاس ایسی کوئی خوبی اور تخصیص ہی باقی نہ رہی جو وہ انسان کو دے سکتا اس پر پرومیتھیس نے ایک فیصلہ کیا ایپی کی ناکامی ثابت ہو چکی تھی پرومیتھیس نے کہا یہ انسان سیدھا کھڑا ہوگا یہ بندر بن مانس یا کسی چوپائے کی طرح نہیں ہوگا اس طرح کے دیوتا ہوا کرتے تھے اس نے کہا کہ یہ انسان کی دیوتا کی طرح ہو گا اور سیدھا کھڑا ہو گا زی اس یہ سب دیکھ رہا تھا اب پرومیتھیس نے فیصلہ کیا کہ انسان کو آگ کا بھی تحفہ دے دیا جائے زی اس ایسا نہیں چاہتا تھا اب دیوتاؤں اور ان کے بادشاہ میں اختلاف سامنے آ گیا پرو نے آگ چُرا لی یہ آگ اس نے زی اس کے چراغ سے چُرائی یا بادشاہوں کی کڑکتی بجلی سے یہ معلام نہیں ہے نعض کے مطابق یہ آگ سورج سے چوری کی گئی یہ انسان کو دی گئی یا نہیں اس بارے میں بھی درست علم نہیں یہ سارا دیومالائی سلسلہ ہے اس میں سچ تو دیومالائی ہی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زی اس بادشاہ نے کہا تھا پہلے عورت بنائی جائے اسے مٹی اور پانی سے بنایا جائے وہ ایک وعروت اس لیے بنوا رہا تھا کہ اسے سزا کے طور پر دوسروں پر استعمال کیا جا سکت پھر ہر دیوی اور پر دیوتا سے کہا گیا کہ وہ اس تیار شدہ عورت کو کوئی نہ کوئی خوبی تیار کرے کسی نے خوبی دی کسی نے کشش کسی نے ترنم کسی نے رقص کی خوبی دی کسی نے اسے تجسس سے بھر دیا اور کسی نے اسے ایسی خوبی دی جس سے وہ ہر کسی کو گرویدہ بنا لیتی اپنی بات پر قائل کر لیتی اس کے دلائل کے آگے بڑے بڑے پانی بھرتے اس عورت کو پینڈارو کا نام دے دیا گیا پینڈورا کو ایک برتن دیا گیا یہ صراحی تھی یا صراحی نما برتن تھا یہ باکس ہر گز نہیں تھا

بریسٹ کینسر کیا ہے؟ اس کی علامات اور وجوہات، ہر نو میں سے ایک خاتون اس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے بروقت تشخیص سے زندگی بچائی جا سکتی ہے


پینڈورا کا جار سولہویں صدی تک جاری رہا پھر ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم کے ایک سکالر ایریس مس نے ایک کہانی کا ترجمہ کیا یہ کہانی یونانی شاعر ھی سوائڈ نے سات سو قبل مسیح لکھی تھی ایریس مس یونانی کہانی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر رہا تھا وہ یونانی لفظ پائتھوس کا ترجمہ کر رہا تھا اس کا اصل ترجمہ جار تھا لیکن اس نے لاطینی زبان کا لفظ پیگزائس ترجمے میں استعمال کیا اس کے معنی باکس کے تھے چنانچہ اب تک اسے پینڈورا باکس ہی کہا جاتا ہے پینڈورا باکس مشہور کیسے ہوا جب خوفناک واقعات رونما ہوتے معاملات الجھتے چلے جاتے تو لوگ اسے پینڈورا باکس سے منسوب کرتے جاتے کہا جاتا ہے کہ انسان ایسی دنیا میں رہتا تھا جس میں پریشانی اور مایوسی نہ تھی جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو پریشانیوں خطروں مایوسیوں اور ناکامیوں نے انسان کو گھیرے میں لے لیا دیکھا جائے تو ان سب منفی رویوں جذبوں اور کاموں کو عورت سے منسوب کیا جاتا تھا عورت ناکامی اور مایوسی کی علامت سمجھی جاتی تھی زی اس بادشاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پینڈورا کو جار بند حالت میں دیا تھا عورت کا تجسس تھا جس کے بارے میں بادشاہ کا خیال تھا کہ یہ اس وقت خطرے کا منہ کھول دے گا جب پینڈورا اس جار کو اور آج کے باکس کو کھول دے گی گویا دیوتاؤں کا بادشاہ ڈرتا تھا کہ یہ عورت ایک دن سارے عذاب کو انسان پر مسلط کر دے گی بادشاہ اس بات پر بھی پچھتایا تھا کہ اس نے پینڈورا سے کہہ دیا تھا کہ کسی صورت بھی اس جار یا باکس کو نہ کھولے انسان کی نافرمانی کا آغاز اس دیو مالائی تاریخ کے مطابق اس وقت ہوا جب پینڈورا نے اپنے جار کو کھول دیا گویا اس نے بدی کا برائی کا اور عذاب کا منہ کھول دیا

آج کل کے تیزی سے بدلتے حالات میں بچوں کی اچھی پرورش والدین کی اہم اور بڑی ذمہ داری


اس نافرمانی کو آدم و حوا سے متوازی کہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے عام خیال یوں کیا جاتا ہے حضرت حوا نے حضرت آدم کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ نے دونوں کو منع کیا تھا اصل بات یہ نہیں تھی اس طرح کہنے والے عورت کو انسان کے جملہ مسائل کا ذمہ قرار دے کر اس کی مذمت کرتے ہیں یہ شیطان تھا جس نے آدم اور حوا کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی جس کے کھانے سے دونوں کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور سزا کے طور پر ان کو حکم دیا گیا کہ وہ زمین پر اتر جائیں جب ساری خوبیاں دیویوں نے پینڈورا کو دے دیں تو بادشاہ زی اس کا پھر بھی خیال تھا کہ اس کے پاس کوئی خوبی نہیں ہے چنانچہ اسے ایک جار دے کر کہا گیا کہ اسے کھولنا نہیں ہے گویا عورت امتحان میں ڈال دی گئی اسے تجسس اور ٹوہ لگانے کی خوبیاں دے کر کہا گیا کہ اب ٹوہ نہیں لگانی ہے اس جار میں کیا ہے بادشاہ ڈرتا رہا کہ وہ اس جار کو کھوکے گی اس جار میں کیا تھا اس میں بدی اور بُرائی تھی گویا بدی اور بُرائی جب بھی کُھلے گی تو عورت کے ہاتھوں سے ہی کُھلے گی اور عام ہوگی مرد کو سزا دینے کے لئے عورت کی تخلیق کی گئی مرد تو پہلے ہی کسی خوبی کے لائق نہ تھا ساری خوبیاں اس کی تخلیق سے پہلے جانور لے اُڑے تھے گویا مرد ناکارہ تھا اور عورت اس کے ناکارہ پن کی سزا تھی اس طرح سے دونوں کسی بھی قابل نہ تھے کہ دیوتاؤں کو للکار بھی سکتے اس مرد اور عورت نے زمین کو بُرائی سے بھر دیا بدی کو عام کر دیا اب کوئی نہیں جانتا تھا کہ پینڈورا باکس میں کیا تھا جب اس باکس کو کھولا جائے گا تو کیا برآمد ہوگا ?

تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بہادری اور جذبہ آج کی عورتوں کے لیے مثالی نمونہ


پینڈورا باکس کی کہانی اس زبان کے ظہور سے پہلے کی کہانی ہے لیکن جدید زبان نے پینڈورا کو مرنے نہیں دیا اب بھی پینڈورا سے مراد عذاب ہے الجھن ہے پریشانی اور مصیبت ہے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ یوں نہ کرو پینڈورا ناجس کھل جائے گا اگر کھُل گیا تو ایسا نہ کیجیے گا ویسا نہ کیجیے گا ہم اس بات سے ڈرتے ہیں جس کے بارے میں جانتے ہی نہیں کہ وہ بات کیا ہے پینڈورا باکس کا تعلق جاننے یا نہ جاننے سے ہے اس کا تعلق کھولنے سے ہے اسی دیومالائی روایت کو مان لیا جائے تو عورت کی زبان کے کُھلنے سے سب ڈرتے ہیں کوگ روایتاً بھی کہہ ڈالتے ہیں کہ میری زبان نہ کُھلواؤ تو بہتر ہے گویا ان کا کہنا دراصل یا دلانا ہے کہ مخاطب کو ڈرنا چاہئے کہ یہ زبان کُھلے گی تو بہت سے راز کُھلیں گے اس دیومالائی روایت کے مطابق پینڈورا نے ایک دن دیکھا زی اس نے اس کی نگرانی پر ایپی میتیھیس کو مقرر کر رکھا تھا وہ کہیں چلا گیا ہے اور اسے دیکھ نہیں رہا

ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش


وہ اس جار یا باکس پر چڑھ گئی اس نے اوپر بڑی الماری میں سے اس کی کنجی چوری کر لی اسے جار کے تالے کے سوراخ میں گھمایا لیکن اسے فوری طور پر شدید جھٹکا لگا اسے احساس جرم کی شدت نے آن گھیرا اس نے تصور میں دیکھا کہ ایپی میتھیس غصے سے خونخوار ہو رہا ہے بس پھر کیا تھا اس نے فوراًہی چابی دوسرے سمت میں گھمائی اور اس جار یا باکس کو کھولے بغیر پھر بند کر دیا کنجی وہیں رکھ دی جہاں سے اُٹھائی تھی اس نے تین بار اسی طرح سے جار کھولنا چاہا اور ایپی میتھیس کے ڈر سے اسے بند کر دیا اسے خیال آتا کہ وہ اندر جھانک لے گی تو پاگل ہو جائے گی پھر ایک دن اس نے پاگل پن کے خوف کو ختم کر دیا چابی نکالی اسے گھمایا آنکھیں بند کیں اور ڈھکن کھول دیا اس نے اس خیال سے آنکھیں کھول دیں کہ اندر سے ریشم و کم خواب برآمد ہوں گے ان میں خوبصورت رزق و برق لباس اور زیورات بھی ہوں گے جھمکے اور خوبصورت گلوبند اور ہار ملیں گےسونے کے سکے اور چوڑیاں ہوں گی لیکن وہاں نہ ریشم تھا نہ سونا چاندی نہ وہاں چمکتے دمکتے زیورات تھے اور نہ طلائی کنگن ہی اسے مل سکے

ّکس انسان کے متعلق حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ خداکا دشمن ہے


پھر اچانک اس کے چہرے کا خوش گوار تحیر خوفناک تاثرات میں بدلتا گیا مایوسی اور خوف نے اسے آن گھیرا اس جار یا باکس کو دیوتاؤں کے بادشاہ زی اس نے کرب و اذیت سے بھر رکھا تھا اس میں عذاب اور قہر ناک درد تھا بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی پینڈورا باکس کُھل گیا تھا تباہی باہر اُمڈی پڑی تھی اور وہ پہلی عورت پینڈورا اس کا براہ راست نشانہ تھی موت کی اب حکمرانی تھی اداسی اور بے حد اداسی تھی اس میں سے ہر شے خوفناک کیڑے مکوڑوں کی صورت میں رینگتی ہوئی باہر نکل رہی تھی ان کیڑے مکوڑوں اور حشرات نے پینڈورا کے جسم پر قبضہ کر لیا وہ اس سے چمٹ ھئے اس کے خوبصورت وجود کا حصہ بنتے گئے اس نے گھبراہٹ خوف اور پہریشانی میں ڈھکن بند کر دیا ایپی میتھیس نے اس کی چیخیں سن کر اندر کی طرف بھاگا تاکہ پینڈورا کو دیکھے کہ وہ کیوں چیخ و پکار کر رہی ہے

جوڑوں کے درد سے نجات کیسے پائیں?


پینڈورا باکس کے اندر سے ایک آواز اس وقت بھی آرہی تھی اور درخواست کر رہی تھی کہ ہمیں باہر آنے دو ہمیں بھی آزادی چاہیئے ایپی نے یہ دیکھا تو کہا باکس میں تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب اندر کا خوف تھا دہشت کا وہ منظر تھا جو اس انسان کے اندر ہوتا ہے باہر تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب آزاد ہو چکا انسان کا اندر خالی ہو جائے تو باہر کیا رہ جاتا ہے یہ کہہ کراس نے ڈھکن دوبارہ سے کھول دیا اب اس باکس میں کیا رہ گیا تھا کہنے والے کہتے ہیں کہ امید زندہ تھی وہ اب بھی اندر تھی جو ایک خوبصورت ڈریگن فلائی بن کے باہر نکل آئی برائی اور جرم نے پینڈورا کے جسم پر جس قدر زخم لگائے تھے اسے قدر کچوکے لگائے تھے انھیں بھر رہی تھی انھیں مندمل کرنے میں لگ گئی تھی اور پینڈورا کو دکھ اور تکلیف سے نجات مل رہی تھی لیکن جو زخم آئے تھے انھیں بھرنے میں مدد درکار تھی امید زندہ تھی اور پینڈورا کے باکس سے نکلنے واحد اچھائی تھی

وضو کے حیران کن فوائد اور سائنس


یہ ساری کہانی افسانوی ہے لیکن اس افسانے میں کتنی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے اس کا ہمیں اس وقت احساس ہوتا ہے جب ہمارے اندر سے حبس باطن اُمڈتا اُمڈتا سارے معاشرے کو زخمی کرتا جاتا ہے ہمیں احساس نہیں ہوتا ہمارے اپنے اندر کے مسائل کھوکھلے ہوتے جانے سے انجان رہتے ہیں ہمیں یہ خیال بھی نہیں رہتا کہ ہم کب پینڈورا کا رُوپ دھار لیتے ہیں دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں اپنے تجسس کو اس کی جائزہ حدود اور درست سمت سے محرام کرتے جاتے ہیں ہم دوسروں کے لئے باکس بن جاتے ہیں پھر کوئی دن آتا ہے کہ کوئی ہمارے لئے باکس بن جاتا ہے ہمارے سامنے روزانہ کئی پینڈورا باکس کھلتے ہیں لیکن ہن دوسروں کو ان کے کھولنے کا مجرم قرار دیتے ہیں

ایسا گاوں جہاں صرف عورتیں ہی رہتی ہیں


ہمارے لئے اور بھی راستے ہوتے ہیں کئی راستے ہمیں معلوم بھی ہوتے ہیں ہم کحھلے راستوں کو اکثر یہ کہہ کر بھی چھوڑ جاتے ہیں یہ طویل ہیں مختصر نہیں پینڈورا باکس کھلنے سے سب ڈرتے ہیں ہمارے ہاں بہت سے باکس ہیں جن کے کُھلنے سے پینڈورا کا کردار سامنے آ سکتا ہے جس کسی اشرفیہ رُکن کا معاملہ سامنے آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بس ہمیں رہنے دیں ورنہ پینڈورا باکس کھل جائے گا درست کہتے ہیں یہ باکس کھلے گا تو قوم کو دکھ تکلیف اور غم کے تجربے سہنا ہوں گے پھر کیا ہونا چاہئے اب کرداروں کو باکس میں بند کر کے انصاف قانون اور اقدار کے ایوانوں کی بلند و بالا الماریوں میں رکھ دیا جائے ان کلی کُنجیاں بہت اوپر رکھ دی جائیں باہر ایپی میتھیس بیٹھا دیئے جائیں وہ پہرا دیتے رہیں کہ کوئی کنجیاں نہ لے سکے

بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?


ایسا کب تک ممکن ہے جن تک پینڈورا زندہ ہے تجسس اور طلب زندگی ہے کہ اسن بلند الماریوں کے قفل کھلنے کی نگاہ منتظر ہے ان الماریوں میں جا بجا باکس پڑے ہیں ان پر ہم سب کے نام لکھے ہیں اشرافیہ کے کام ان میں بند پڑے ہیں پینڈورا میں بے پناہ دکھ تکا لیف غربت غلامی بے آبروئی چاپلوسی چالاکی کے کیڑے رینگ رہے ہیں اس کا باکس کھلنے کی دیر ہے یہ سب باہر آجائیں گے لیکن جب یہ باہر آ جائیں گے تو آخر میں امید زندہ ہو جائے گی ان سے نجات کی امید زخموں اور آہوں سے نجات کی امید آئے یہ پینڈورا باکس کھول ہی دیں کم از کم ہماری آنے والی نسلوں کو تو امید مل سکے گی یہی پینڈورا باکس تھا جسے آج کل ہر سیاست دان کھولتا ہے اور اخبارون میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا

Leave a reply