fbpx

طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد محمد عطاء ربانی نے سکولز کالجز کے طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے کے کیس کے مرکزی ملزم سابق پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق کو 21 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے جبکہ اس کیس میں گرفتار دوسرے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

مدعی مقدمہ کامران عباسی کی طرف سے عمر ستی ایڈووکیٹ، سردار خضر ایڈووکیٹ اور وقاص احمد عباسی ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ فاضل عدالت نے اپنا فیصلہ 2 ستمبر 2020ء بروز بدھ کو سنایا۔تھانہ آبپارہ میں درج اس مقدمے میں شامل دفعہ 292_C میں چودہ سال ، دفعہ 506 ضمن ٹو میں دو سال جبکہ 377AB میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ اس واقعہ کا مقدمہ نمبر 276/19 گزشتہ سال 25 اگست 2019 ء کو تھانہ آبپارہ میں درج ہوا تھا اور مرکزی ملزم پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق اور پندرہ سالہ ریحان موقع پر دھرے گئے تھے۔بعدازاں پولیس کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق سکولز کالجز کے لڑکوں کو پسٹل دکھا کر خوف زدہ کرنے کے بعد انہیں پولیس لائنز ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سمیت مختلف مکانوں میں لے جاتا تھا جہاں ان کے ساتھ قبیح فعل کھیلا جاتا اور اس دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی تھیں.

پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش کے دوران متاثرہ 50 سے زائد بچوں کے والدین منظر عام پر آگئے تاہم پولیس اور بدنامی کے خوف سے چند ہی بچوں کے والدین تفتیش کا حصہ بنے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش کے دوران پچاس سے زائد متاثرہ بچوں کی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں جو ملزم نے بنائی تھیں۔ اکثر متاثرہ بچے سیکٹر جی سکس ون تھری، سیکٹر جی سکس ٹو، سیکٹر جی سکس ون فور کے علاوہ بہارہ کہو کے رہائشی تھے ۔جن کی عمریں پندرہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھیں۔

سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

چار سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش مسجد کے باتھ روم میں پھینکنے والا ملزم گرفتار

فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

یہ گھناؤنا کھیل کئی سالوں سے جاری تھا۔گزشتہ سال 25 اگست 2019ء کو پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق اور اس کا ساتھی ریحان اہل محلہ کی مدد سے اس وقت پکڑے گئے جب وہ ایک بچے کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔جس کے بعد تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہوا۔

یہ مقدمہ کامران عباسی نامی تاجر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایک نوجوان میرے گھر پر آیا اور میرے بیٹے زین العابدین کو باہر بلایا اس اثناء میں مجھے شک ہوا میں فوراً باہر آیا تو میرے بیٹے نے گھبراتے ہوئے مجھے بتایا کہ یہ وہی افراد ہیں جنھوں نے حماد کے گھر ہمراہ حبیب ستی، شاہ زیب ستی اور ریحان سے مل کر اس کی غیر اخلاقی ویڈیو بنائی اور اب مجھے بدفعلی کے لئے مجبور کر رہے ہیں اور مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے۔ یوں محلے میں شور شرابہ پڑ گیا اور اہل محلے کی مدد سے پولیس کانسٹیبل شہزاد اور اس کا ساتھی ریحان پکڑے گئے تھے۔

دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار