fbpx

تحریک لبیک کا دھرنا، انٹرنیٹ بند، پولیس کو مذاکرات میں ناکامی

تحریک لبیک کا دھرنا، انٹرنیٹ بند، پولیس کو مذاکرات میں ناکامی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں تحریک لبیک کا یتیم خانہ چوک میں دھرنا جاری ہے

تحریک لبیک کے ذمہ داران نے حکومت کو آج شام پانچ بجے کا الٹی میٹم دے رکھا ہے، الٹی میٹم میں کہا گیا ہے کہ حکومت معاہدے کے مطابق فرانس کے سفیر کو بے دخل کرے اورتحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو رہا ہے، بارہ ربیع الاول کو ریلی کے اختتام پر تحریک لبیک نے دو روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے دھرنا دیا تھا، آج دوسرا روز ہے، دھرنے میں شرکا کی بڑی تعداد موجود ہے، حکومت کی جانب سے لاہور شہر سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں تحریک لبیک کے کارکنان کی گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں، لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، اندرون لاہور بھی کئی مقامات پر کینٹینر پہنچا دیئے گئے ہیں، ضرورت پڑنے پر حکومت راستے بند کر سکتی ہے،

دوسری جانب لاہور میں مکمل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں،حکومت نے لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس (ڈیٹا سروس، Wifi، فیکس لائن، DSL، کیبل نیٹ) بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ، لاہور کے علاقوں سمن آباد،شیرا کوٹ، سبزہ زار، گلشن راوی، اقبال ٹاؤں میں انٹرنیٹ کی بندش کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ، تحریک لبیک کے دھرنے سے رات گئے اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت نے پانچ بجے سے پہلے اگر کوئی حرکت کی تو پانچ بجے کا انتظار نہیں کیا جائے گا

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے ذمہ داران سے پولیس حکام نے مذاکرات کی کوشش کی،تا ہم لبیک کے ذمہ داران نے پولیس سے بات چیت سے انکار کر دیا،تحریک لبیک کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ہم 15 دن سے پر امن احتجاج کر رہے تھے کوئی بھی ہماری بات سننے نہیں آیا، ہمارے مطالبات مانے جائیں یا پھر الٹی میٹم تک انتظار کیا جائے

لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ ہے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے چاروں اطراف موجود ہے واٹر کینن گاڑیاں،اینٹی رائٹٹس فورس،بڑی تعداد میں گیس شیل اور سپیشل فورسز کے دستے پہنچ چکے دھرنے کے باعث کالی کوٹھی اقبال ٹاؤن۔سکیم موڑ ۔سوڈیوال نیازی اڈا اور سمن آباد موڑ سے راستوں کو خاردار تاروں اور کنٹینرز کی مدد سے سیل کر دیا گیا ۔پولیس کی بھاری موقع پر موجود ہے دیگر اضلاع سے بھی نفری لاہور پہنچ چکی کسی بھی وقت گرینڈ آپریشن ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پر حکومت نے پابندی لگا دی تھی تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا

سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے

علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

کسی کو نہیں چھوڑیں گے، مذہبی جماعت کیخلاف بڑے فیصلے ہو گئے، شیخ رشید

تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

حکومت کیلئے نئی مشکل، تحریک لبیک کا ناموس رسالت مارچ کا اعلان

سعد رضوی کی گرفتاری کی ویڈیو سامنے آ گئی

تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں‌ پر نکل آئے،لاہور بند،ملک جام کرنیکا اعلان

پولیس نے ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کر دی،کارکنان پر فائرنگ،شیلنگ،اموات

لاہور سمیت مختلف علاقوں میں تشدد،بلاول بھی میدان میں‌ آ گئے

کالعدم مذہبی جماعت اور حکومت میں مذاکرات کامیاب،کیا ہوئے فیصلے؟

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے قرارداد ہو گی اسمبلی میں پیش

فرانسسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد ،بڑی سیاسی جماعت کا اجلاس میں شرکت نہ کرنیکا فیصلہ

تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی رہا؟

کس کس کو رہا کیا جا رہا ہے؟ شیخ رشید کا کالعدم مذہبی جماعت بارے بڑا اعلان

کالعدم جماعت سے پابندی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

کالعدم تحریک لبیک نے پابندی کیخلاف ایسا کام کر دیا کہ حکومت کو بھی اجلاس بلانا پڑ گیا

کالعدم تحریک لبیک کی درخواست، وزارت داخلہ میں اجلاس

کالعدم جماعت کی بھی لیگل ٹیم ہو سکتی ہے؟ سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست پرعدالت کے ریمارکس

سعد رضوی کی رہائی کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی آج ہو پائے گی؟