fbpx

رانا شمیم توہین عدالت کیس. فرد جرم کی کاروائی ہوئی مؤخر

رانا شمیم توہین عدالت کیس. فرد جرم کی کاروائی ہوئی مؤخر
رانا شمیم توہین عدالت کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

انصار عباسی، ودیگر عدالت میں پیش ہوئے .چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ انصار عباسی آپ نے درخواست میں کسی کلیریکل غلطی کی نشاندہی کی ہے،یہ جو بیانیہ بنا ہے کہ ثاقب نثار نے ایک جج کو کال کی اس سے سائلین پر کیا اثر ہوگا، آپ کی خبر نے یہ تاثر دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو اپروچ کیا جاسکتا ہے اس بنچ سے زیادہ کوئی آزادی اظہاررائے کا حامی نہیں ،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ میرشکیل الرحمان کہاں ہیں ، انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ میر شکیل الرحمان کی فیملی میں شادی ہوئی تھی جس کے بعد اہلیہ کو کورونا ہوگیا .میر شکیل الرحمان اہل خانہ کے ساتھ قرنطینہ میں ہیں، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے توہین عدالت کے ملزم انصار عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود تحریری طور لکھا ہے کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رانا شمیم نے بیان حلفی میں سچ بولا ہے یا جھوٹ،آپ تحقیقاتی صحافی ہیں، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ شاید رانا شمیم نے سو فیصد جھوٹ بولا ہو،لیکن آپ کا کام حقائق چیک کرنا نہیں ہے؟ ملزم انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ میں لیگل مائنڈ نہیں ہوں، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کے ملزم انصار عباسی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ان بنیادی چیزوں کا پتا ہونا چاہیے تھا ورنہ آپ کسی وکیل سے پوچھ لیتے،

انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر صاحب نے ٹویٹ کیا کہ اگر میرے پاس یہ بیان حلفی آتا تو میں بھی وہی کرتا جو انصار عباسی نے کیا۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شکر ہے انہوں نے نہیں کیا ورنہ توہین عدالت کا کیس ان پر چل رہا ہوتا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پوری سماعت میں آپکو سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ نے کیا غلطی کی ہے، انسان سے انجانے میں بھی غلطی ہوجاتی ہے اس عدالت کیلئے سائلین کے حقوق سب سے زیادہ اہم ہیں، اگر کوئی معروف آدمی بیان حلفی دے چاہے وہ جھوٹا ہو تو آپ چھاپ دینگے؟ بیانیہ یہ ہے کہ ایک جج نے ثاقب نثار سے بات کی، لیکن وہ بنچ میں شامل ہی نہیں تھے، بنچ میں جسٹس محسن اختر کیانی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، وہ اپیلیں بعد میں میرے بنچ نے بھی سنیں، اس بیانیے کے مطابق ہم تینوں پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے،جن کے نام خبر میں لکھے ہیں دو دن بعد ان کے کیسز لگے تھے، مجھ پر جتنا مرضی کوئی تنقید کرے مجھے فرق نہیں پڑتا، آپ کا کیس چل رہا ہے اپنے پچھلے اخبار دیکھ لیں آپ کیا چھاپ رہے ہیں، آپ نے کہا کہ بیان حلفی شاید غلط ہوا ہو لیکن ہم پھر بھی چھاپیں گے، آپکا اتنا بڑا اخبار ہے آپکو یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ خبر کس کیس پر اثرانداز ہو گی، یا تو آپ کہہ دیں کہ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا،پھر فرد جرم عائد کرتے ہیں اس کے بعد آپ اپنا موقف دیدیں،جنگ اخبار صحافتی تنظیموں کی جو خبریں چھاپ رہا ہے وہ اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے،آپ اس حلف نامے کی انکوائری کروانا چاہتے ہیں تو کروالیں، لیکن انکوائری ان کی نہیں ہوگی جن کے نام ہیں ۔انکوائری ان کی ہوگی جو اس بینچ میں موجود ہیں،

ناصر زیدی نے عدالت میں کہا کہ اس عدالت کے تمام ججز کا احترام ہم دل سے کرتے ہیں، اس اندھیر نگری میں آپ روشنی ہیں اور ہمیں ہمیشہ آپ سے انصاف ملتا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کیرئیر میں میں نے صرف 2توہین عدالت کی کاروائیاں شروع کی ہیں .انصار عباسی نے کہا کہ میرے خیال سے فرد جرم عائد نہیں کرنی چاہیے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ عدالت کو ڈکٹیٹ ناکریں عدالت طے کرے گی فرد جرم عائد کرنی ہے کہ نہیں. اگر آپ کا موقف مان لیا جائے تو یہ آئندہ کے لیے سب کو لائسنس دینے کے مترادف ہوگا کہ کوئی بھی اخبار کسی کا بھی جھوٹا بیان حلفی، کسی بھی عدالت پر اثر انداز ہونے کے لیے چھاپ دے گا،

ریما عمر نے جسٹس شوکت عزیز کی تقریر کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اٹھا دیا جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریما عمر کو روک دیا اور کہا کہ یہاں سیاسی باتیں نہ کریں، عدالت نے حکم دیا کہ پلیز آپ جاکر بیٹھ جائیں، عدالت نے ریما عمر کو بات کرنے سے روک دیا. ریما عمر نے کہا کہ اس کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے بہت الزامات لگائے جو میڈیا نے رپورٹ کیے، عدالت نے کہا کہ کیا پھر یہ بیانیہ درست ہے کہ جو سزا معطل کی تھی وہ بنچ کسی کے کہنے پر بنے تھے؟ کیا آپ شک کر رہی ہیں کہ اس کورٹ کے بنچز کسی کے کہنے پر بنتے ہیں؟ کیا آپ کو شک ہے کہ اس عدالت کے بنچز کوئی اور بناتا ہے، ریما عمر نے کہا کہ بالکل نہیں، میں جو کہنا چاہ رہی ہوں وہ تو سن لیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ شک نہیں تو پھر آپ کو یہ حوالہ بالکل نہیں دینا چاہیے تھا، آپ عدالتی معاون ہیں، پلیز اپنی نشست پر تشریف رکھیں، رانا شمیم کے وکیل عبدالطیف آفریدی کو سن لیتے ہیں، وکیل رانا شمیم نے کہا کہ آج تو ہم چارج کے لیے تیار ہو کر آئے تھے عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ انصار عباسی کو بہت پہلے سے جانتا ہوں، وہ عوام تک سچ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس موضوع پر کم علمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عبدالطیف آفریدی بطور عدالتی معاون دلائل دے رہے ہیں،یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صحافی کو چھوڑ دیں اور میرے کلائنٹ کے خلاف کارروائی کریں،

عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیس میں پریس کانفرنس تمام میڈیا نے کوور کی اور شائع بھی کی جس پر عدالت نے کسی میڈیا نمائندے کو عدالت میں نہیں بلایا.فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیسز کا فیصلہ ایک مثال تھا اس کیس سے ہم سب کی تربیت ہورہی ہے زیر سماعت اپیلوں کے فریقین میں سے کسی نے عدالت کو اس خبر پر کوئی درخواست نہیں دی میری تجویز ہے کہ انصار عباسی پر فرد جرم عائد نہ کی جائے صحافی کی لاپرواہی پر کرمینل پروسیڈننگ کا اغاز نہیِں ہوتا رانا شمیم کی حد تک یہ مجرمانہ توہین عدالت کا کیس بنتا ہے، صحافیوں کے خلاف نہیں،

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر قانونی بات کر رہا ہوں، ایک بیانیہ کافی عرصے سے بنایا جا رہا ہے،
یہ کہہ سکتا ہوں بیانیہ بنانے والا اس عدالت میں موجود نہیں، میڈیا نمائندگان کیرییر ہیں بیانیہ بنانے والے کوئی اور لوگ ہیں مجھے یقین ہے اس کاروائی سے عامر غوری اور انصار صاحب نے مستقبل کے لیے سبق سیکھا ہوگا یہ فیصلہ کریں اور عدالت کے روبرو کہیں کہ ہم نے گڈ فیتھ میں اس خبر کو شائع کیا اگر غلطی ہوئی تو اسے مانتے ہیں ہم قانونی لوگ ہیں ہمیں سیاست کے بجائے قانون کا دفاع کرنا ہے .عدالت نے کہا کہ بیانیے ججز کو متاثر نہیں کرتے ہمارے فیصلے اور کنڈکٹ بولتا ہے ملزم میر شکیل الرحمن کی فیملی میں 3 افراد کو کرونا ہوگیا ہے، اس لیے وہ نہیں آئے،فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 20 جنوری تک کے لیے موخر کر دی گئی

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے .صحافی نے سوال کیا کہ رانا صاحب آج فرد جرم عائد ہو گی کیا کہیں گے ؟ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ جو عدالت فیصلہ کرے گی ،آج عدالت رانا شمیم و دیگر پر فردم جرم عائد کرے گی

قبل ازیں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم بیان حلفی توہین عدالت کیس ،اٹارنی جنرل پاکستان توہین عدالت کیس کے پراسیکیوٹر مقرر کر دیئے گئے

آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔