عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

0
38

عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا جس کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو خط لکھ دیا،

سابق چیف جسٹس کے خلاف بیان کا حلف نامہ پاکستانی ہائی کمیشن لندن بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے، اٹارنی جنرل کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس کے خلاف بیان کا حلف نامہ پاکستانی ہائی کمیشن لندن بھی دیا جائے،حلف نامہ کی کاپی سربمہر لفافے میں پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو بھیجا جائے،پاکستانی ہائی کمیشن حلف نامہ وزارت خارجہ کے ذریعے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھیجے گی،

رانا محمد شمیم کے بیان حلفی کی خبر شائع کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کیس کی سماعت کررہے ہیں میر شکیل الرحمان صحافی انصار عباسی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی عدالت میں پیش ہو گئے ،عدالت نے حکم دیا کہ سارے بیٹھ جائیں،عدالت نے استفسار کیا کہ پاکستان بار کونسل اور پی ایف یو جے سے کون آئے ہیں،سیکرٹری انور رضا نیشنل پریس کلب نے عدالت میں کہا کہ پی ایف یو جی سے ناصر زیدی صاحب آئے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ناصر زیدی صاحب کی تو بہت قربانیاں ہیں،

عدالت نے رانا شمیم کو پانچ روز میں جواب جمع کرانے کا دوسرا موقع دیدیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ رانا شمیم صاحب عدالت میں آئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رانا شمیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تین سال بعد الزامات عائد کیے ہیں، رانا شمیم نے عدالت میں کہا کہ میرا بیان حلفی جو عدالت میں جمع کرایا گیا وہ میں نے نہیں دیکھا،چیف جسٹس نے رانا شمیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اخبار نے آپکا بیان حلفی آگے پہنچایا ہے، اصل بیان حلفی تو آپکے پاس ہی ہو گا،آپ کا بیان حلفی کسی وجہ سے ہو گا، یہ کسی ایک اخبار میں شائع ہونے کیلئے تو نہیں،رانا شمیم نے کہا کہ میں نے بیان حلفی کو سیلڈ رکھا ہوا تھا معلوم نہیں کیسے لیک ہو گیا، مجھے جواب جمع کرانے کیلئے 2 ہفتے کا وقت دیا جائے عدالت نے رانا شمیم کو 7 دسمبر تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بیان حلفی انکو نہیں دیا، جس پر رانا شمیم نے کہا کہ نہیں، میں نے بیان حلفی کسی کو نہیں دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بیان حلفی کی وجہ سے اس ہائیکورٹ پر الزامات عائد ہوئے،آپ بتائیں گے کہ آپ نے بیان حلفی کیوں جمع کرایا، اسکی کوئی وجہ ہو گی، اس بیان حلفی نے اس عدالت کے تمام ججوں کو مشکوک کیا ہے، آپ اپنے جواب میں بتائیں کہ آپکو تین سال بعد یہ ضرورت کیوں پیش آئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رانا صاحب کی آج کی جو اسٹیٹمنٹ ہے وہ زیادہ خطرناک ہے،سیاسی بیانیے کیلئے عدالت کو استعمال نہیں کرنا چاہیے،اگر رانا شمیم کا اصل بیان حلفی اس بیان حلفی سے مختلف ہوا تو اخبار پر بڑا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایک شخص لندن جا کر بیان حلفی لکھواتا ہے اور بھول کیسے جاتا ہے؟ عدالت کی ساکھ کو متاثر کرنے کا موسم چل رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ یہ سارا موسم عدالت کے باہر ہی چل رہا ہے، سیاسی بیانیے کیلئے اس ہائیکورٹ کو دور رکھیں،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر لائیں کہ بیان حلفی میں کیا ہے انہیں وہ نہیں معلوم،10نومبر کو بیان حلفی دیا گیا اور آج وہ کہتے ہیں کہ انہیں پتہ نہیں کیا لکھا ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگررانا شمیم کے مطابق بیان حلفی سیل کرکے پوتے کودیا تواخبار پر ذمہ داری آجائے گی ،اگر بیان حلفی سیل تھا تو پھر اخبار کو یہ بیان حلفی کیسے ملا؟ آپ کے بیان نے نیوز پیپر کے لیے معاملہ پیچیدہ بنادیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا رانا شمیم کو اوریجنل بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ رانا شمیم شوکاز نوٹس کا تحریری جواب بھی جمع کرائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں توہین عدالت پر یقین نہیں رکھتا،ججزکوتنقید کا سامنا کرنا چاہیے سیاسی بیانیے کے لیے کم ازکم اس ہائیکورٹ کو بدنام کرنے سے باز رہیں،رانا شمیم نے عدالت میں کہا کہ 12دسمبر کے بعد کی تاریخ رکھ لیں تو میری طبیعت بہتر ہوجائے گی اس سے پہلے کی تاریخ رکھی تو اوریجنل بیان حلفی نہیں آسکے گا،اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ انہیں کہیں کہ بیان حلفی سفارتخانے کے ذریعے منگوا لیں،عدالت نے کہا کہ 7دسمبر کو بیشک پیش نہ ہوں اورحاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دیں ،سابق جج رانا شمیم نے کہا کہ لطیف آفریدی کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے

عدالتی معاون کی توہین عدالت کے تمام ملزمان کےخلاف کارروائی جاری رکھنے کی تجویزسامنے آئی،عدالت نے کہا کہ عدالتی معاونین کو جمع کرائے گئے شوکازنوٹس کے جوابات کی نقول فراہم کریں ، عدالت نے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کر دی

قبل ازیں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورنوازشریف کو کندھا دینے والے جج رانا شمیم کے الزامات پرجاری شوکاز نوٹسز میں سے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہےجبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں‌ ابھی تک گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم کا جواب داخل نہیں ہو سکا، دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کے جواب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے

یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

قبل ازیں مریم نواز کی آڈیو سے قبل ،سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی بھی آڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آڈیو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے جس میں وہ نوازشریف کو اقتدارسے دوررکھنے کے لیے کسے کے ساتھ بات چیت کررہےہیں اس آڈیو کے منظرعام پرآتے ہیں یہ تاثربھی عام ہوگیاکہ یہ نوازشریف اینڈ کمپنی کی کاریگری کا ایک اور شاہکار ہے جو بہت جلد اپنی موت آپ مرجائے گابعض نے کہاہے کہ اس آڈیو کا فرانزک چیک ہونا چاہیے-

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو ن لیگ نے صحیح کہا اور اسکو لے کر مریم نواز نے دو دن قبل پریس کانفرنس بھی کی تھی، ثاقب نثار کی اس آڈیو کو اگرچہ مختلف پروگراموں کی آڈیو لے کر جوڑ کر بنایا گیا ہے تا ہم ایک جملے کو مریم نواز نے چیلنج کیا اور کہا کہ بتایا جائے یہ جملہ کس تقریر کا حصہ ہے،مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف جرم کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے مریم نواز کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں آڈیو کوجھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی

@MumtaazAwan

بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

نا اہل عمران نیازی کو کس نے وزیر اعظم بنایا؟ بنی گالہ،زمان پارک کی رسیدیں دینا پڑیں گی، نواز شریف

نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

مریم نواز عدالت پہنچ گئی

مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

Leave a reply