fbpx

مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی

 

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال مالہی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ایک شہری کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر رکوانے کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنا افسوسناک عمل ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال مالہی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کا آئین و قانون اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے،پاکستان ایک کثیر المذہب ملک ہے اور اس پرتمام پاکستانیوں کا برابر کا حق ہے۔ مندر کی تعمیر سے نہ صرف اسلام آباد میں رہائش پذیر والی ہندو برادری مستفید ہوگی بلکہ دنیا بھر سے اسلام آباد آنے والے ہندو اور دیگر سیاح بھی مستفید ہوسکیں گے۔

لال مالہی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کرشنا مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ وہ عناصر قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریئے کے بھی مخالف ہیں ۔بانی پاکستان نے واضح کہا تھاکہ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

لال مالہی نے کہا کہ کرشنا مندر کے لیے H-9/2 میں 4 کنال پلاٹ نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کی ہدایت پر CDA نے 2017 میں ہندو پنچائت اسلام آباد کو الاٹ کر کے قبضہ دیا تھا۔ مندر کے پلاٹ کے برابر میں کرسچن کمیونٹی اور پارسی کمیونٹی کو بھی ان کی مذہبی عبادت گاہیں بنانے کے لیے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے 23 جون کو کرشنا مندر کی تعمیر کا باقائدہ افتتاح ہو چکا ہے اور اس وقت چاردیواری کی تعمیر جاری ہے۔ 25 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے اقلیتی ارکان اسمبلی کے وفد سے ملاقات میں مندر کے لیے فنڈز فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کو ہدایات بھی جاری کی تھیں۔

لال مالہی نے کہا کہ انہیں یقین ہے معزز عدالت نہ صرف اس پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دے گی بلکہ کورٹ کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گذار پر جرمانہ بھی عائد کرے گی۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پہلے مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا،2017 میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے احکامات پر سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی ہندو پنچایت کو چار مرلے پلاٹ الاٹ کیا گیا مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں تعمیر کیا جانے والا یہ پہلا ہندو مندر ہوگا، سنگ بنیاد رکھنے کی اس تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ہیومن رائٹس لال مالہی مہمان خصوصی تھے۔ آزادی پاکستان کے بعد اسلام آباد میں پہلا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ہندو برادری کی عبادت گاہ کیلئے اسلام آباد کے سیکٹر H9/2 کی جگہ مختص کی گئی۔

وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

موجودہ دور میں ہندو برادری کی عبادات کیلئے اسلام آباد میں کوئی فنکشنل مندر موجود نہیں تھا ۔تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی لال مالہی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت اقلیتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے میں مصروف ہے اور ہم اسلام آباد میں شری کرشن بھگوان کا مندر تعمیر کررہے ہیں۔

اسلام آباد میں مندر کی تعمیرفوری روکنے کی درخواست مسترد