لاہوری ..رنگ باز کیوں؟ سنئے اہم انکشاف مبشر لقمان کی زبانی

0
42

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر آپ کو لاہور اچھا نہیں لگتا تو یہ ویڈیو آپ کے لئے ہے، جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا، آج ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہے ان لوگوں کے لئے جو لاہور کے لئے دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ کہیں سے بھی ہوں لاہور سے پیار کرتے ہوں

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل ، نیلا کرنے والی ، دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہوا کرتا تھا، شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر نیل کی منڈی قائم کی تھی یہ اکبر کے نام پر اکبری منڈی کہلانا شروع ہوئی ، اس کے ساتھ جڑا علاقہ رنگ محل ہے، لاہور کے قریبی علاقے میں موجود علاقے میں نیل کے پودے لگے ہوئے تھے اسی مناسبت سے اس علاقے کو آج بھی نیلی بار کہتے ہیں

دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگ پودوں کی کاشت کرتے تھے بڑی بڑی کڑاہیوں میں اس کو پکاتے اور اسکی ڈلیاں بناتے وہ اکبری منڈی پہنچتی اور تاجر خریدتے پھر بیل گاڑیوں پر یہ ممبئی اور کولکتہ پہنچتیں اور وہاں سے فرانسیسی اور اطالوی ٹریڈرز ان کو خریدتے تھے بعد میں اٹلی میں نیل جاتا تھا اور بھی کئی ممالک میں جاتا تھا، یہ نیل بعد ازاں اٹلی کے ساحلی شہرجینوا پہنچ جاتا تھا فرانسیسی شہر نیم کے قریب تھا۔ نیم شہر ڈی نیم کہلاتا ہے جہاں ہزاروں کھڈیاں تھیں جن پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا تھا۔ یہ کپڑا سرج کہلاتا تھا سرج کپڑا بن کر جینوا پہنچتا تھا۔ وہ لوگ اس کپڑے پر لاہور کا نیل چڑھاتے تھے جس سے کپڑا نیلا ہو جاتا تھا۔ وہ نیلا کپڑا بعد میں درزیوں کے پاس پہنچتا تھا۔ درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پاجامے سیتے تھے۔ وہ پاجامے بعد ازاں جینوا شہر کی وجہ سے جینز کہلانے لگیں۔

وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جینز پتلونیں مشہور ہو گئیں تو ڈی نیم شہر کے تاجروں نے اپنے کپڑے کو ڈی نیم پکارنا شروع کر دیا۔ جینز اور ڈی نیم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہوئے اور یہ اس طرح ڈینم جینز معرض وجود میں آئے ۔ اس کے تین عناصر تھے جس سے وہ مکمل ہوتی تھی۔ پہلا ڈی نیم کا کپڑا، دوسرا لاہور کا نیل اور تیسرا جینوا کے درزی۔ مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو شاید جینز نہ بنتی اور اگر بنتی بھی تو کم از کم یہ نیلی نہ ہوتی۔ جینز کا نیلا پن بہرحال لاہور کی مہربانی تھا۔

چین سے پہلے امریکہ کو وبا کا پتہ تھا،ٹرمپ دنیا کو ماموں بناتے رہے، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

گریٹ گیم، اصل کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟

پی آئی اے کے لئے سنہری موقع،دنیا کی بڑی ایئر لائن تباہی کے دہانے پر، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

بڑی خوشخبری، رمضان گناہوں کے ساتھ ساتھ وبا سے بھی ڈھال ،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

کیا آپ بھی اس شخص سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی میں؟ کون ہے وہ شخص ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

اڑن طشتریاں زمین پر، امریکہ نے فوٹیج جاری کر دی، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

عمران خان چھکا لگانے کے لئے تیار،مبشر لقمان کے سیاسی تبدیلیوں بارے اہم انکشافات

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ آج بھی انگریزوں کی پرانی ڈکشنری کو نکال کر دیکھیں تو آج بھی ان میں نیل کا نام لاہوری ملے گا، برے زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے بعد میں یہ انڈیا کی مناسبت سے انڈیکو بن گیا، فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ولندیزیوں نیل کے لئے ہندوستان آتے تھے جب کہ برٹش پہلی بار افیون کے لئے آئے تھے اور پورا ہندوستان ان کی ہاتھ میں آ گیا

سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

کرونا کی کمر توڑنے والا سپر ہیرو ملک کونسا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

کس کس نے کھیلا جوا اورکس نے کی میچ فکسنگ،سلیم ملک ،عامرسہیل نے کئے اہم انکشاف

دنیا بدل رہی ہے، وبا کے بعد کیا ہو گا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

ہوش کریں، اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیں،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

حدیث اور سائنس کی روشنی میں کرونا وائرس 12مئی کے بعد ختم ہوجائے گا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

پیپلز پارٹی بمقابلہ اے آروائی ،مبشر لقمان اصل حقیقت منظر عام پر لے آئے

جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا اور یہ لاہوری اور انڈیگو کہلاتا تھا۔یہ ہزاروں میل تک زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جنیوا پہنچتا تھا اور پھر پوری دنیا میں پھیل جاتا تھا لیکن پھر لاہوری نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا اور یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے اور پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں، اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا اور یوں لاہور میں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔ لیکن لاہوری نیل اور لاہوری ابھی بھی رنگ باز ہیں،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کلکتہ کے تاجروں نے دیا تھا،ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی اور فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا ہے مثلاً پتنگ اڑانے والے ،پتنگ بنانے والے کو پتنگ باز کہا جاتا تھا ،کبوتر پالنے والے کبوتر باز اور رنگ بیچنے والے رنگ باز، اسی طرح تاجروں نے لاہوریوں کو رنگ باز کہا کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا لاہور رنگ باز ہو گیا۔ اور یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ہے۔ کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا

بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

 

Leave a reply