fbpx

متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں،چیف جسٹس

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

نظر ثانی اپیل میں ایڈووکیٹ منیر ملک اور عابد زبیری عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ مختیار کار اور لینڈ ڈپارٹمنٹ کے پروپوزل پر دی گئی جو من گھڑت ہے، سندھی مسلم سوسائٹی نے ہمیں 380 اسکوائر یارڈ کی اجازت دی،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمشنر کراچی کی رپورٹ کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھی مسلم سوسائیٹی 380گز آپ کو الاٹ نہیں کر سکتی؟ کمشنر رپورٹ کے مطابق 788 گز کی لیز جو 1957 بتائی جارہی ہےغیر قانونی ہے،

منیر اے ملک نے عدالت میں کہا کہ اگر 1957 کی لیز غیر قانونی قرار دی گئی تو پھر پورا کراچی گرانا پڑیگا، کمشنر کراچی نے سندھی مسلم کی اضافی لینڈ سندھی مسلم کو الاٹ کی، سندھی مسلم سوٹائیٹی نےزمین 23 لوگوں کو الاٹ کی ،80 گز نسلہ ٹاور کو دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلڈر کو اپنا گھر نہیں بنانا ہوتا، وہ غیر قانونی طریقے سے بلڈنگ بناکر بھیج دیتے ہیں

قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن نے تجاوزات کیس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ گجر نالہ پیش رفت رپورٹ کہاں ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی ہے،258 ایکڑز اراضی پر متاثرین کو متبادل زمین مختص کردی ہے چھ ہزار سے زائد گھر بنائے جائیں گے سندھ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہے سندھ حکومت، کہتے ہیں پیسے نہیں ہیں ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے ہیں مگر کچھ نہیں ہو رہا کھربوں روپے کی باہر سے مدد آتی ہے کیا کرتے ہیں مطلب آپ کے پاس پیسے نہیں تو گورنمنٹ فنکشنل نہیں عوام کے لیے پیسے نہیں باقی سارے امور چلا رہے ہیں وزرا اور باقی سب کے لئے فنڈز ہیں

@MumtaazAwan

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ بحریہ ٹاون واجبات سے رقم ملے گی تو منصوبے پر کام شروع کردیں گے،60 ارب روپے اگر سپریم کورٹ ریلیز کردے تو کام شروع کر دیتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان پیسوں پر امید لگا لی کیا آپ کے پاس پیسے نہیں؟ آپ انتہائی غیر انتہائی ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں جو پیسے سپریم کورٹ نے وصول کرائے آپ نے ان پر نظر رکھ لی ہے سلمان طالب الدین نے کہا کہ بحریہ ٹاون کے واجبات سندھ حکومت ہی کے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے طے کرنا ہے کہ وہ پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں وہ آپ کے نہیں ہیں، ہم نے طے کرنا ہے کہ اس پیسے کا کیا کرنا ہے ایک ایک پیسہ سپریم کور ٹ طے کرے گی کہ کہاں لگے گا کھربوں روپے کے بجٹ سے آپ کے پاس 10 ارب نہیں آپ سندھ حکومت ہیں، ایڈووکیٹ جنرل صاحب یہ سب ذمہ داری آپ کی تھی، سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پیسے آئے نہیں سارا جہان لینے آگیا،جب گاڑیاں خریدنی ہوتی ہیں تو پیسے آجاتے ہیں اگر زلزلہ یا سیلاب آجائے تو پھر کیا کریں گے؟ کوئی آفت آجائے تو کیا ایک سال تک بجٹ کا انتظار کریں گے ؟ عدالت نے استفسار کیا کہ جنہوں نے زمینیں الاٹ کیں ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ جس پرایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یہ تو 40سال پرانا مسئلہ ہے ، جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسارکیا کہ اس طرح سے شہر چلاتے ہیں؟ ایک انچ کا بھی کام نہیں ہوا ہے، حکمرانی کرنے والے جانتے ہی نہیں کہ شہر کو کیسے چلایا جاتا ہے کچھ پتہ نہیں ہے،غیر قانونی قبضے سڑکیں بدحال، کچھ نہیں ،سندھ حکومت مکمل بینک کرپٹ کی جانب کھڑی ہے اس سب کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے ،سندھ حکومت کو شرم آنی چاہئے جس بلڈنگ کو اٹھاﺅ اس کا براحال ہے،سڑکیں ٹوٹیں، بچے مررہے ہیں، یہ کچھ نہیں کرنے والے،یہی حال سندھ اور وفاقی حکومت کا بھی ہے سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں،سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کا م تو کریں،اگر لوگوں کو سروس نہیں دے سکتے تو کیا فائدہ ؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کے لئے انتہائی سخت ریمارکس دیئے اور کہا کہ شیم آن سندھ گورنمنٹ پورے کراچی کو کچرا بنادیا ہے جا کر دیکھیں،آپ لوگوں نے کراچی شہر کو سیاست کی نذر کردیا شہر میں گڑا ابل رہے ہیں اور تھوڑی سے بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے متاثرین کو گھر دینے تک وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس الاٹ کر دیتے ہیں لوگوں کو کہتے ہیں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاﺅس کے باہر ٹینٹ لگا لیں ،بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو براہ راست حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اطمینان بخش جواب نہ دے سکے متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کا کام ہے سندھ حکومت دستیاب وسائل سے بحالی کا کام کرے وزیر اعلیٰ سندھ فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور متاثرین کی بحالی کیلئے رقم کا انتظام کریں

مزار قائد کے اطراف میں کیا کام کریں؟ چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو بڑا حکم دے دیا

ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے دیا کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کرنے کا حکم

انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کر سکتے،غیرقانونی تعمیرات گرائیں، چیف جسٹس کا بڑا حکم

مزار قائد کے سامنے فلائی اوور کیسے بن گیا؟ شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور رکھیں، چیف جسٹس کا حکم

کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس